Top Ad unit 728 × 90

Breaking News

random

Basant Past Present and Madina State



Basant His Past Present and Future.
Basant is a famous Pakistani Festival celebrated every year in summer season. This column is written by Muhammad Adil Khan Tanoli and was published in different offline and online news papers.

اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کے لیے اپنے ماننے والوں کو بہترین اور عمدہ اصول و قوانین پیش کیے ہیں۔ اخلاقی زندگی ہو یا سیاسی، معاشرتی ہو یا اجتماعی اور سماجی ہر قسم کی زندگی کے ہر گوشہ کے لیے اسلام کی جامع ہدایات موجود ہیں اور اسی مذہب میں ہماری نجات مضمر ہے۔

مگر آج ہمیں یورپ اور یہود و نصاریٰ کی تقلید کا شوق ہے اور مغربی تہذیب کے ہم دلدادہ ہیں۔ یورپی تہذیب و تمدن اور طرزِ معاشرت نے مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی میں انگریزی تہذیب کے بعض ایسے اثرات بھی داخل ہوگئے ہیں، جن کی اصلیت و ماہیت پر مطلع ہونے کے بعد ان کو اختیار کرنا انسانیت کے قطعاً خلاف ہے؛ مگر افسوس کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان اثرات پر مضبوطی سے کاربند ہے؛ حالاں کہ قوموں کا اپنی تہذیب وتمدن کو کھودینا اور دوسروں کے طریقہٴ رہائش کو اختیار کرلینا ان کے زوال اور خاتمہ کا سبب ہوا کرتا ہے۔ مذہبِ اسلام کا تو اپنے متبعین سے یہ مطالبہ ہے:

اریخ کے ایک محقق مؤرخ اور سائنسدان علامہ ابوریحان البیرونی تقریباً ایک ہزار سال قبل ہندوستان تشریف لائے تھے۔ انہوں نے کلرکہار (ضلع چکوال) کے نزدیک ہندوؤں کی معروف یونیورسٹی میں عرصہ دراز تک قیام کیا، وہیں انہوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”کتاب الہند“ تحریر کی۔ یہ کتاب آج بھی ہندوستان کی تاریخ کے ضمن میں ایک مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کے باب 76 میں انہوں نے ”عیدین اور خوشی کے دن“ کے عنوان کے تحت ہندوستان میں منائے جانے والے مختلف مذہبی تہواروں کا ذکر کیا ہے۔ اس باب میں عید ”بسنت“ کا ذکر کرتے ہوئے علامہ البیرونی لکھتے ہیں: ”اسی مہینہ میں استوائے ربیعی ہوتا ہے، جس کا نام بسنت ہے، حساب سے اس وقت کا پتہ لگا کر اس دن عید کرتے ہیں اور برہمنوں کو کھلاتے ہیں، دیوتاؤں کی نذر چڑھاتے ہیں“۔ کتاب الہند، مترجم: سید اصغر علی:صفحہ 206)

آئیے پہلے اس حقیقت سے مطلع ہوتے ہیں کہ یہ کیسے شروع ہوئی؟ اور آخر یہ کس کی رسم ہے؟ ادھر موسم بہار کا آغاز ہوتا ہے ادھر ہرطرف بو کاٹا کی صدائیں بلند ہو جاتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ محبوبوں کے دن کے طور پر معروف ویلنٹائن ڈے بھی بہار میں بھی منایا جاتا ہے۔ ہر طرف بدتمیزی عام ہوتی ہے۔ رات کے وقت لائٹنگ اور ساؤنڈ سپیکر لگا کر اونچی آوازوں سے شرفاء کا جینا دو بھرکر دیا جاتا ہے. پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کو بہت زیادہ کوریج دیتا ہے۔ پہلے پہل اس رسم یعنی بسنت کا آغاز ہندوستان کے مشہور صوبوں اتر پردیش اور پنجاب میں ہوا۔پھر یہ لاہورمیں گستاخِ رسول کو جہنم واصل کرنے کے بعد اس کی یاد میں ہندوؤں نے اسے منایا. ایک ہندو موٴرخ ڈاکٹر بی ایس نجار (Dr. B.S. Nijjar) نے اپنی کتاب ”Punjab under the ”later Mughals کے صفحہ نمبر 279 پر لکھا ہے کہ:
”حقیقت رائے نامی ہندو نوجوان باکھ مل پوری سیالکوٹ کے کھتری کا لڑکا تھا۔ ایک دفعہ اس کی لڑائی کچھ مسلمان نوجوانوں سے ہوگئی، اس ہندو نوجوان نے سرورِ کائنات ﷺکی شان میں کچھ نازیبا گفتگو کی،گالیاں نکالیں، ساتھ ساتھ سیدہ فاطمۃالزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی شان میں مغلظات بکے، جس سے برصغیر کے سارے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوگئے۔اس وقت کاگورنر زکریا خان مسلمان تھا، اس نے گستاخ ہندو نوجوان کو اس کے جرم کی پاداش میں گرفتار کروا دیا ۔عدالتی کاروائی کے لیے لاہور لایا گیا، اس کے گرفتار کرنے سے پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی سوگ منانے لگی۔ اس سے ان کو بڑا شدید دھچکا لگا لہٰذا پھر کچھ ہندو آفیسرز مل کر گورنر پنجاب کے پاس گئے اور اس نوجوان کے لیے درخواست کی کہ اس کو معاف کردیا جائے، مگر گورنر پنجاب زکریا خان نے صحیح مسلمان ہونے کا حق ادا کر دیا اور معاف نہ کیا۔ بہرحال اس نوجوان کو کوڑے مارے گئے اور پھر تلوار سے گردن اُڑادی گئی۔ پھر ہندوؤں نے اس کی یاد میں بسنت کا تہوار منانا شروع کر دیا۔ اس نوجوان کی سمدھی لاہور میں ہے۔ لاہور میں واقع بھاٹی گیٹ سے گاڑی جاتی ہے۔ پنجاب کا بسنت میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔“
افسوس کہ ہم ایک گستاخِ رسول کی یاد مناتے ہیں۔

اسی طرح ایک ہندو منشی رام پر شاد ماتھر ہیڈ ما سٹر آف گورنمنٹ ہائی سکول پنشز اپنی کتاب ”ہندو تیوہاروں کی دلچسپ اصلیت“ میں رقم کرتا ہےکہ:
”اب فصل کے بارآور ہو نے کا اطمینان ہو چلا، کچھ عرصہ میں کلیاں کھل کر تمام کھیت کی سبزی زردی میں تبدیل ہونے لگی، اس لیے کاشتکار کے دل میں قدرتی امنگ اور خوشی پیدا ہوتی ہے، اور وہ ماگھ کے آخر ہفتہ میں بسنت پنچمی کے روز زرد پھولوں کو خوش خوش گھر لا کر بیوی بچوں کو دکھاتا ہے اور پھر سب مل کر بسنت کا تہوار مناتے ہیں۔ پھر زرد پھول اپنے کانوں میں بطور زیور لگا کر خدا سے دعا کرتے ہیں کہ اے پرماتما ہماری محنت کا پھل عطا کر اور پھولے ہوئے درختوں میں پھل پیدا کر۔ پھر لکھتا ہے کہ بسنت پنچمی کو وشنو بھگوان کا پوجن ہوتا ہے۔(ہندو تیوہاروں کی دلچسپ اصلیت ، منشی رام پرشاد ،مطبوعہ دی فائن پریس لکھنؤ1942ء)“

بسنت کو آج کل ”پالا اُڑنت“ کا نام دے کر موسمی تہوار بتایا جاتا ہے. پتنگ بازی کا موجد چین کو کہا جاتا ہے اور چین میں پتنگ بازی کا آغاز کچھ مؤرخین کے مطابق 3 ہزار سال قبل ہوا۔ اس وقت یہ رواج تھا کہ بانس لے کر اس کے فریم میں سلک کے کپڑے جوڑ کر اس کو اڑایا جاتا تھا۔ چین کے بعد پتنگ بازی ایشیا میں آئی۔ اس کے بعد امریکہ، افریقہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں جا پہنچی۔ آج کل بسنت اور پتنگ بازی کو لازم و ملزوم تصور کیا جاتا ہے، حالانکہ قدیم تاریخ میں بسنت کے تہوار کے ساتھ پتنگ بازی کا ذکر نہیں ملتا۔ آج جس انداز میں بسنت منانے کا مطلب ہی پتنگ بازی لیا جاتا ہے، یہ تصور بہت زیادہ پرانا نہیں ہے۔ مزید برآں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کا شغل بھی لاہور اور اس کے گرد و نواح میں برپا کیا جاتاہے، اس کا اہتمام ہندوستان یا پنجاب کے دیگر علاقوں میں اس انداز سے نہیں کیا جاتا۔ آج سے دس پندرہ سال پہلے پنجاب کے قدیم ترین شہر ملتان میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کا تصور تک نہیں تھا۔ یہی صورت بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، راولپنڈی اور سرگودھا جیسے بڑے شہروں کی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر لاہور میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کا شغل اس قدر جوش و خروش سے کیوں برپا کیا جاتا ہے؟ تاریخ اور مذہب کے آئینے میں جھانک کر اس سوال کا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔

اگر بسنت محض موسمی تہوار ہوتا تو یہ صرف لاہورہی نہیں، پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی اتنا ہی مقبول ہوتا۔ اندرونِ سندھ میں جہاں اب بھی ہندوؤں کی کثیر تعداد رہائش پذیر ہے، وہاں پتنگ بازی یا بسنت کی وہ ہنگامہ آرائی نظر نہیں آتی جس کا مظاہرہ لاہور یا اس کے گردونواح میں کیا جاتا ہے۔ایسی صورتحال بلاوجہ نہیں ہے۔ اس کا ایک مخصوص تاریخی پس منظر ہے۔ روزنامہ نوائے وقت میں بسنت کے بارے میں تجزیاتی رپورٹ شائع ہوئی، اس کے متعلقہ حصے ملاحظہ فرمائیے:
”بسنت خالص ہندو تہوار ہے اور اس کا موسم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں بسنت کی کہانی ہر سکول میں پڑھائی جاتی ہے لیکن لاعلمی یا بھارتی لابی کی کوششوں سے بسنت کو اب پاکستان میں مسلمانوں نے موسمی تہوار بنا لیا ہے۔ بسنت کی حقیقت کیا ہے اور اس کا آغاز کیسے ہوا؟ اس بارے میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قریباً دو سو برس قبل ایک ہندو طالب علم حقیقت رائے نے محمد مصطفی کے خلاف دشنام طرازی کی۔ مغل دور تھا اور قاضی نے ہندو طالب علم کو سزائے موت سنا دی۔ اس ہندو طالب علم کو کہا گیا کہ وہ اسلام قبول کر لے تو اسے آزاد کر دیا جائے گا مگر اس نے اپنا دھرم چھوڑنے سے انکار کر دیا، چونکہ اس نے اقرارِ جرم کر لیا تھا، لہٰذا اسے پھانسی دے دی گئی۔ پھانسی لاہور میں علاقہ گھوڑے شاہ میں سکھ نیشنل کالج کی گراؤنڈ میں د ی گئی۔ قیام پاکستان سے پہلے ہندوؤں نے اس جگہ یادگار کے طور پر ایک مندر بھی تعمیر کیا لیکن یہ مندر آباد نہ ہوسکا، اور قیامِ پاکستان کے چند برس بعد سکھ نیشنل کالج کے آثار بھی مٹ گئے۔ اب یہ جگہ انجینئرنگ یونیورسٹی کا حصہ بن چکی ہے۔ ہندوؤں نے اس واقعہ کو تاریخ بنانے کے لیے، اپنے اس ہندو طالب علم کی ”قربانی“ کو بسنت کا نام دیا اور جشن کے طور پر پتنگ اُڑانے شروع کردیے۔ آہستہ آہستہ یہ پتنگ بازی لاہور کے علاوہ انڈیا کے دوسرے شہروں میں بھی پھیل گئی۔ اب ہندو تو اس بسنت کی بنیاد کو بھی بھول چکے مگر پاکستان میں مسلمان بسنت منا کر اسلام کی رسوائی کا اہتمام کرتے رہتے ہیں. (روزنامہ نوائے وقت،4 فروری 1994ء)“

ہندو مؤرخ ڈاکٹر نجار کی بات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ لاہور کے ہندوؤں کے ایک گروہ نے اس واقعہ کے خلاف شدید جذباتی ردّعمل کا اظہار کیا، کیونکہ اس وقت پنجاب میں مسلمانوں کی حکومت تھی، طبعاً بزدل مزاج ہندوؤں کے لیے یہ تو ممکن نہ تھا کہ وہ بھرپور تحریک چلاتے، البتہ انہوں نے حقیقت رائے کی یاد میں میلہ منانا شروع کر دیا جو احتجاج کی ایک نرم مگر مؤثر صورت تھی۔ اس واقعہ کے تقریباً پچاس سال بعد پنجاب میں سکھوں نے مسلمانوں کو شکست دے کر تخت لاہور پر قبضہ کر لیا۔ سکھ تو پہلے ہی بہت جذباتی ردّعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کے ”ذمہ دار“ مسلمانوں کو قتل کرچکے تھے۔ جب وہ پنجاب میں برسر اقتدار آئے تو انہوں نے اس واقعہ کے حوالے سے بسنت کا تہوار جوش و خروش سے منانا شروع کر دیا۔ ایک انگریز مؤرخ الیگزینڈر بریز جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے زمانہ میں لاہور آئے تھے، انہوں نے یہاں بسنت منانے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
”بسنت کا تہوار جو بہار کا تہوار تھا، 6 فروری کو بڑی شان و شوکت سے منایا گیا۔ رنجیت سنگھ نے ہمیں اس تقریب میں مدعو کیا اور ہم اس کے ہمراہ ہاتھیوں پر سوار ہو کر اس میلہ کی بہار دیکھنے چلے جو بہار کا خیر مقدم کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ لاہور سے میلہ تک مہاراجہ کی فوج دو رویہ کھڑی ہوتی ہے۔ مہاراجہ گذرتے وقت اپنی فوج کی سلامی لیتا ہے۔ میلہ میں مہاراجہ کا شاہی خیمہ نصب تھا جس پر زرد رنگ کی ریشمی دھاریاں تھیں۔ خیمہ کے درمیان میں ایک شامیانہ تھا جس کی مالیت ایک لاکھ روپے تھی اور اس پر موتیوں اور جواہرات کی لڑیاں آویزاں تھیں۔ اس شامیانہ سے شاندار چیز کوئی نہیں ہوسکتی۔ مہاراجہ نے بیٹھ کر پہلے گرنتھ صاحب کا پاٹھ سنا، پھر گرنتھی کو تحائف دیے اور مقدس کتاب کو دس جز دانوں میں بند کر دیا۔ سب سے اوپر والا جز دان بسنتی مخمل کا تھا۔ اس کے بعد مہاراجہ کی خدمت میں پھل اور پھول پیش کیے گئے جن کا رنگ زرد تھا۔ بعد ازیں اُمراء، وزراء و افسران آئے جنہوں نے زرد لباس پہن رکھے تھے، انہوں نے نذریں پیش کیں۔ اس کے بعد طوائفوں کے مجرے ہوئے، مہاراجہ نے دل کھول کر اِنعامات دیے. (نقوش، لاہور نمبر ص 763)“

انگریز مؤرخ الیگزینڈر کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اگرچہ راجہ رنجیت سنگھ کے دور میں بسنت بظاہر بہار کا خیرمقدم کرنے کے لیے منائی جاتی تھی مگر اس کی تقریبات پر مذہبی رنگ غالب تھا۔ مہاراجہ کا میلے میں باقاعدہ گرنتھ صاحب سننا اور گرنتھی کو تحائف دینا مذہبی رسومات کے زمرے میں آتا ہے۔ ہندو برہمنوں کو نذرانے دیتے ہیں تو سکھ گرنتھیوں کو تحائف دیتے ہیں۔ سکھ مذہب میں بسنتی یا زرد رنگ کو بھی ایک خاص تقدس کا مرتبہ حاصل ہے۔ اب بھی سکھ مذہبی راہنما زرد پگڑیاں پہنے نظر آتے ہیں۔!

سیکولر لادین اور مغرب زدہ طبقہ تو ایک طرف رہا، بظاہر مذہبی اَفراد کو بھی بسنت منانے سے روکا جائے تو وہ اسے محض ”ملا کا وعظ“ کہتے ہوئے مسترد کر دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان میں مذہبی پارساؤں کا ایک عوام دشمن گروہ ہے جو لوگوں کو سچی، حقیقی اور بے ضرر تفریح کے مواقع سے بھی محروم کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس بات کو ذہنی طور پر تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ بسنت ہندوؤں کا ایک مذہبی تہوار بھی ہے جو اسے خاص موسم میں مناتے ہیں۔ حقیقت رائے کی یاد میں منائے جانے والے ”بسنت میلہ“ کے پس منظر سے تو شاید ہی کوئی واقف ہو۔ ہندو اور سکھ مؤرخین برملا اعتراف کرتے ہیں کہ لاہور میں بسنت پنچمی کے روز منایا جانے والا میلہ حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مگر ہمارے بعض مسلمان بضد ہیں کہ یہ صرف موسمی تہوار ہے۔

بعض افراد یوں بھی کہتے ہیں کہ بسنت ہندوؤں کا مذہبی تہوار ہوگا مگر ہم تو اسے محض موسمی اور ثقافتی تہوار سمجھ کر مناتے ہیں۔ یہ ان کا محض تجاہل عارفانہ ہے۔ ایک شخص دعوت ناؤ نوش میں شریک ہوتا ہے، وہاں حلال اور حرام مشروبات کثیر تعداد میں موجود ہیں، اس نے شراب کو آج تک دیکھا ہے، نہ چکھا ہے۔ وہ شراب کی بوتل کھول کر کچھ نوشِ جاں کرلیتا ہے۔ اتنے میں مجلس میں موجود اسے ایک شخص بتاتا ہے کہ قبلہ آپ شراب سے لطف اندوز ہو رہے ہیں؟ اس اطلاع کے بعد بھی اگر وہ یہ عذر پیش کرے کہ میں تو اس کو محض ایک شربت سمجھ کر پی رہا ہوں تو کیا اس کا یہ عذر معقول سمجھا جائے گا؟ مزید برآں بسنت کے تاریخی پس منظر سے لاعلمی کا اظہار بھی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ ایک جاہل آدمی تو شاید معذور ہو مگر وہ لوگ جو یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں اور غرورِ علم میں مبتلا ہیں، وہ لاعلمی کا عذر پیش کرکے اس ذمہ داری سے پہلو کیسے بچا سکتے ہیں؟ قانون سے لاعلمی کو سزا سے بریت کا جواز تسلیم نہیں کیا جاتا تو ان عالم فاضل اَفراد کی طرف سے بسنت کے بارے میں اس تجاہل عارفانہ کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے۔

مذہبی لحاظ سے تو بسنت منانا قابل اعتراض ہے، لیکن خالصتاً موسمی اور ثقافتی تہوار کی حیثیت سے بھی اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ گذشتہ چند برسوں سے لاہور کے نودولیتوں، سمگلروں اور عیاشوں نے بسنت کے تہوار کو اپنی اباحیت مطلقہ کے اِظہار کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ایک بظاہر سماجی تہوار میں جس طرح سماجی اَخلاقیات کی دھجیاں اُڑائی جاتی ہیں، وہ ہر اعتبار سے قابل مذمت ہے۔ شاید ہی کوئی دوسرا ثقافتی تہوار ہو جس میں اس قدر وسیع پیمانے پر شراب و کباب اور شباب کا استعمال کیا جاتا ہو۔ اخبارات میں فائیو سٹار ہوٹلوں، حویلیوں اور بعض کوٹھیوں میں بسنت منانے والے خواتین و حضرات کی تصاویر عام شائع ہوتی ہیں، مگر ان مواقع پر رقص و سرود، شراب نوشی اور طوائف بازی کی بےباکانہ گناہ آلود مجالس کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہوتی ہے کہ ایسی مجالس میں منتخب افراد کو مدعو کیا جاتا ہے، دوسری یہ کہ ان مجالس کے شرکا اس کی تفصیلات ہر صحافی کو کم ہی بتاتے ہیں۔ حتیٰ کہ صحانی حضرات کو بھی ان مجالس میں اس شرط پر شریک کیا جاتا ہے کہ وہ رازداری قائم رکھیں گے۔ ان مجالس میں ثقافت کے نام پر جو جو جنسی ذلالتیں اور ہوسناکیاں برپا کی جاتی ہیں، انہیں منظرعام پر اگر لایاجاسکے تو قوم کو معلوم ہوگا کہ ایک اسلامی ریاست میں فحاشی کی کون کون صورتیں طبقہ اُمرا میں مروّج ہیں۔

رنجیت سنگھ کے زمانے میں طوائفیں بسنت میلے میں شریک ہوتی تھیں اور بسنتی لباس پہنتی تھیں، آج بھی”گناہ کے بازار“ میں بسنت کا تہوار بے حد جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں اُمراء کی بیگمات زرد لباس نہیں پہنتی تھیں مگر آج امیر گھرانوں کی بیگمات طوائفوں کے اتباع میں نہ صرف زرد لباس پہنتی ہیں بلکہ پتنگ بازی میں جوش و خروش سے حصہ لیتی ہیں۔ نوجوان لڑکیاں بوکاٹا کے نعرے لگاتی اور کلاشنکوف سے فائرنگ کرتی ہیں۔ اندرونِ شہر مکانوں کی چھتیں سرسوں کے کھیت جیسا منظر پیش کرتی ہیں۔

بسنت ایک ایسا تہوار ہے جس میں امیر، متوسط اور غریب گھرانے اپنی اپنی مالی اِستعداد کے مطابق حصہ لیتے ہیں۔ فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہی بسنت کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ پتنگ بازی جہاں ایک بہت بڑا شغل سمجھا جاتا ہے، وہاں پتنگ سازی اچھی خاصی صنعت کا روپ دھار چکی ہے، ایک فضول شوق کی تکمیل میں قوم کا کروڑوں اربوں روپے کا سرمایہ برباد کر دیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو مالی پریشانیوں سے دوچار ہیں اور زندگی کی گاڑی مشکل سے چلا رہے ہیں، وہ بھی چاہے قرض کیوں نہ لینا پڑے، بسنت ضرور مناتے ہیں۔ ایک جنون ہے جو لوگوں پر طاری ہوجاتا ہے یا کردیا جاتا ہے، دو چار روپے کی پتنگ لوٹنے کے لیے لڑکے بالے ہاتھوں میں ڈھانگے لیے سڑکوں پر دیوانہ وار پھرتے ہیں، انہیں تیز رفتار ٹریفک کا احساس ہوتا ہے نہ مکانات کی چھتوں سے گرنے کا احتمال روکتا ہے۔ کٹی ہوئی پتنگ دیکھتے ہی ان پر دیوانگی اور پاگل پن طاری ہوجاتا ہے۔ ہر سال ایسی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ ایک درخت پر اَٹکی ہوئی پتنگ کو اُتارتے ہوئے ایک دس سالہ بچہ شاخ ٹوٹنے کی وجہ سے زمین پر گر پڑا۔

آج کل بسنت کا تہوار محض پتنگ بازی تک محدود نہیں رہا، اس میں آتشیں خودکار اسلحہ سے فائرنگ کا خطرناک رُجحان بھی فروغ پا چکا ہے۔ بسنت کی رات پورا شہر کان پھاڑنے والی فائرنگ کی زد میں رہتا ہے۔ کوئی اگر مریض ہے اور شور سے پریشان ہوتا ہے، تو جانے اپنی بلا سے، بسنت بازوں کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہے، ایک دھماکوں کا سلسلہ ہے جو طلوعِ سحر تک جاری رہتا ہے۔ فائرنگ کے ساتھ ڈیک لگا کر اونچی آواز میں موسیقی کے نام پر طوفانِ بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے۔ پتنگ کٹنے یا کاٹنے پر لڑکیاں لڑکے مل کر مجنونانہ اُچھل کود کرتے ہیں۔ چھتوں پر دندناتے ہیں اوربے تحاشا ہڑبونگ مچاتے ہیں۔ اگر کوئی ناسازیٴ طبع کی بنا پر نیچے کمروں میں سویا ہوا ہے، اسے پہنچنے والی ذہنی اذیت کا احساس تک نہیں کیا جاتا۔

بسنت کے موقع پر کس قدر جوش و خروش اور جنون خیزی کا مظاہرہ کیوں کیاجاتا ہے؟ اس کی ذمہ داری کسی ایک طبقہ پر نہیں ڈالی جاسکتی۔ حکومت، ذرائع اَبلاغ، پریس، سیکولر طبقہ، والدین، اساتذہ ، سماجی راہنما، طبقہ علما سب نے اس معاملے میں کوتاہی کا ارتکاب کیا ہے۔ ہمیں اعتراف کرنا چاہہے کہ ہم نے نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت اور راہنمائی کے فرائض کو اَحسن طریقے سے نبھانے میں غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ماضی قریب میں پتنگ بازی کو آبرو مندانہ شغل یا تفریح نہیں سمجھا جاتا تھا۔ صدر ضیاء الحق مرحوم کے دور تک ہر سال بسنت کے موقع پر حکومت پنجاب کی طرف سے تمام اِداروں کے سربراہوں کو ہدایت کی جاتی تھی کہ وہ اپنے دفتر کے افسروں کو پتنگ بازی یا ہلڑ بازی میں شریک ہونے سے منع کریں۔ پتنگ بازی کو سرکاری قواعد میں وقار سے گری ہوئی تفریح سمجھا جاتا تھا۔

بسنت جیسے تہوار کے متعلق جنون خیزی پیدا کرنے میں سب سے زیادہ کردار ذرائع ابلاغ پر چھائے ہوئے ایک مخصوص طبقہ نے ادا کیا ہے جو تہذیب و ثقافت کے نام پر اس ملک میں بیہودگی کو رواج دینا چاہتا ہے۔ بسنت کے موقع پر ٹیلی ویژن پر ”پتنگ باز سجنا“ جیسے واہیات گانوں کو بار بار پیش کیا جاتا ہے، ا خبارات میں خصوصی ایڈیشن شائع کیے جاتے ہیں جس میں بازاری عورتوں کو بسنتی لباس میں دکھایا جاتا ہے۔ اَخباری رپورٹوں میں بار بار بسنت کے اِنتظامات کا تذکرہ کیا جاتاہے اور اِعلانات شائع کیے جاتے ہیں کہ فلاں فلاں مقامات پر بسنت انتہائی جوش و خروش سے منایا جائے گا۔ یہ ساری سرگرمیاں نوجوانوں میں بسنت کے متعلق آتش شوق کو بھڑکا دیتی ہیں۔

ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ کہیں شعوری یا غیر شعوری طو رپر ایک گستاخِ رسول کی یاد میں منعقد کیے جانے والے بسنت میلہ میں شریک ہو کر ہم توہین رسالت کا ارتکاب تو نہیں کر رہے؟ کیا ہم ہندوؤں کے مذہبی تہوار کو منا کر دوسری قوموں سے مشابہت کے گناہ کا اِرتکاب تو نہیں کر رہے؟ کیا ہمارا بسنت منانے کا طور طریقہ لہو و لعب کی تعریف میں شامل تو نہیں ہے؟ بسنت کے نام پر رقص و سرور، ہلڑ بازی، ہاؤ ہو،شورشرابہ، چیخم دھاڑ، فائرنگ، وغیرہ مہذب قوموں کا شعار نہیں ہےاللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت اور سمجھ نصیب فرمائے ۔آمین
Basant Past Present and Madina State Reviewed by Makt on April 26, 2020 Rating: 5

No comments:

Note: Only a member of this blog may post a comment.

All Rights Reserved by MAKT-E-ZONE © 2020

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.